کہیں نہ کہیں
اس دنیا میں اب تم رہتے نہیں
شہر دل میں بستے ہو کہیں
تیرے چہرے کو مدتوں سے دیکھا نہیں
پر تیرے نقوش آوازین ہیں کہیں
ایک عرصے سے تو خاموش ہے لیکن
اٹھتی ہیں یاد کے مندر میں گونجیں کہیں
وھی افسانے یاد ماضی کے
دل اکثر چھیر بیٹھتا ہے کہیں
تیری وہ مسکراہٹ، بھولپن اور نشیلے نین
ویسے ہی آنکھوں میں محفوظ ہیں کہیں
تم مجھ سے بچھرے تو کبھی بھی نہیں
بس میری ذات ادھوری رہ گئی ہے کہیں
موت تو ہم کو جدا کرسکتی نہیں
لازوال تعلق بھی ٹوٹا ہے کہیں
جینا تمھارے بغیر تو کچھ بھی نہیں
آجاؤ نا لوٹ کر کہیں نہ کہیں
No comments:
Post a Comment