Sunday, 22 September 2013

کہیں نہ کہیں 

اس  دنیا میں اب تم رہتے نہیں
  شہر  دل میں بستے ہو کہیں
تیرے چہرے کو مدتوں سے دیکھا نہیں
 
پر تیرے نقوش آوازین ہیں کہیں
 

ایک  عرصے سے تو خاموش ہے لیکن
 
اٹھتی ہیں یاد کے مندر میں گونجیں کہیں
 

وھی افسانے یاد ماضی کے
 
دل اکثر چھیر بیٹھتا ہے کہیں
تیری وہ مسکراہٹ، بھولپن اور نشیلے  نین
 
ویسے ہی آنکھوں میں محفوظ ہیں کہیں
 

تم مجھ سے بچھرے تو کبھی بھی  نہیں
  
بس میری ذات ادھوری رہ گئی ہے کہیں
 موت  تو ہم کو جدا کرسکتی نہیں
 
لازوال تعلق بھی ٹوٹا ہے کہیں
جینا تمھارے بغیر تو کچھ بھی نہیں
 
آجاؤ نا لوٹ کر  کہیں نہ کہیں   

No comments:

Post a Comment