Kiyun
کیوں
کیوں یہ فاصلے نہیں مٹتے کیوں یہ پل نہیں کٹتے
کیوں اتنے دور ہو ہم سے کے چاہ کر بھی نہیں دکھتے
اک تمھارے نام کا مندر ہے دل میں
کیوں تم یوں مجھے سرعام نہیں ملتے
کیوں چھپاتے ہو محبت کو
کیوں یہ خط ہمیشہ گم نام ہی ملتے
لوگ کہتے ہیں تم لا حاصل ہو
کیوں اک بار خود، ہم سے کہ نہیں دیتے
اسکا تو دیدار ہی قیامت تھا شہباز کیوں ہو پھر چھونے کا تکلف کرتے
No comments:
Post a Comment